Shad Rajput

Add To collaction

ساعت ہجراں ہے اب کیسے جہانوں میں رہوں

ساعت ہجراں ہے اب کیسے جہانوں میں رہوں
کن علاقوں میں بسوں میں کن مکانوں میں رہوں
ایک دشت لا مکاں پھیلا ہے میرے ہر طرف
دشت سے نکلوں تو جا کر کن ٹھکانوں میں رہوں
علم ہے جو پاس میرے کس جگہ افشا کروں
یا ابد تک اس خبر کے رازدانوں میں رہوں
وصل کی شام سیہ اس سے پرے آبادیاں
خواب دائم ہے یہی میں جن زمانوں میں رہوں
یہ سفر معلوم کا معلوم تک ہے اے منیرؔ
میں کہاں تک ان حدوں کے قید خانوں میں رہوں
منیر نیازی

   3
0 Comments